16 ستمبر، 2025، 2:41 PM

صہیونیوں کے خلاف منظم دفاعی نظام کی تشکیل وقت کی اہم ضرورت ہے، جنرل شریف

صہیونیوں کے خلاف منظم دفاعی نظام کی تشکیل وقت کی اہم ضرورت ہے، جنرل شریف

دفاع مقدس تحقیقاتی و اسنادی مرکز کے سربراہ جنرل شریف نے کہا ہے کہ صہیونی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے عرب اور مسلم ممالک کو ایک واحد منظم دفاعی ڈھانچہ تشکیل دینا چاہیے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، دفاع مقدس تحقیقاتی و اسنادی مرکز کے سربراہ جنرل رمضان شریف نے قطر پر حملے کے بعد مسلم ممالک کو مشترکہ دفاعی نظام تشکیل دینے پر زور دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مهر نیوز کے نمائندے سے گفتگو میں اسرائیل کے قطر پر حملے کے بعد مغربی ایشیا اور عرب ممالک کی صورت حال اور ایران کے موقف تبصرہ کرتے ہوئے جنرل رمضان نے کہا کہ فلسطینی عوام کی حمایت انقلاب اسلامی کے بعد سے ایران کی غیر متزلزل پالیسیوں میں سے ایک ہے۔ امام خمینی اور رہبر معظم نے طویل عرصے سے صہیونی حکومت کے بارے میں خصوصی طور پر خبردار کیا ہے۔ ایران نے اس سلسلے میں ایک واضح حکمت عملی اپنائی ہوئی ہے جسے وہ شرعی اور انسانی فریضہ سمجھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی حکمت عملی اسرائیل کے مقابلے میں اپنے قومی مفادات کے تحفظ پر مبنی ہے۔ جب بھی صہیونیوں کو موقع ملا ہے انہوں نے ایران کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ صہیونی حکومت صرف ایران ہی نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ اور انسانیّت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔

جنرل شریف نے طوفانِ الاقصی کو فلسطین کے مسئلے پر از سر نو نظر ثانی کے لیے ایک موقع قرار دیا اور کہا کہ یہ آپریشن دنیا بھر کے عوامی شعور کو بیدار کرنے میں مددگار ثابت ہوا ہے۔

انہوں نے اسرائیل کے خلاف مسلمان ممالک کے اسرائیل کے خلاف اتحاد اور ایک منظم عسکری و انتظامی ڈھانچے کے بارے میں سوال کے جواب میں کہا کہ یہ ایک خواب ہے اور ہر کوئی امید کرتا ہے کہ ایک دن مسلم اور عرب ممالک اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ اسرائیل کے خلاف اجتماعی، منظم اور موثر کارروائی ضروری ہے۔ یہ خواہش ہر مسلمان اور حریت پسند کی ہے اور یہی فلسطینیوں کی بھی چاہت ہے۔

جنرل شریف نے اعتراف کیا کہ عملی طور پر عرب اور مسلم ممالک کا ایک ہی قوت بن جانا موجودہ حالات میں واضح طور پر قریب نظر نہیں آتا تاہم اس سمت میں پیش رفت ضروری ہے تاکہ اسلامی اور عرب ممالک ایک منظم دفاعی نظام قائم کرسکیں اور اجتماعی قوت کے ساتھ صہیونی قوتوں کا مقابلہ کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ شروع میں ضروری ہے کہ مسلمان اور عرب ممالک صہیونیوں کی اقتصادی اور تجارتی مدد بند کریں، سیاسی حمایت ترک کریں، اور اگر وہ براہ راست جوابی کارروائی کا حوصلہ نہیں رکھتے تو کم ازکم ان لوگوں کی مدد کریں جو آج میدان جنگ میں صہیونیوں کے خلاف جرأت کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔

News ID 1935377

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha